اردو

متحدگی آمدید

سماجی حقوق کیلیئےجدوجہد

ہمیں اسکی عادت نہیں جوعام طور پرہماری آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے: کہ صورتحال بہتر نہیں ہو رہی ہے۔ مصائب اور موت اب کوئی رعایت نہیں ہے۔وہ سب لوگ جو اس ملک میں روز مرہ زندگی کی صورت گری کرتے ہیں جنکا تعلق اس ملک سے نہیں اور ان لوگوں کی جو ابھی بھی اس ملک میں آنا چاہتے ہیں۔ لوگوں کی توہین کی جا رہی ہے، اور مارنا پیٹنا، تھوک پھینکنا۔ سینکڑوں، ہزاروں کی یکجہتی  پر برے سلوک کی مہر ہے۔ہم شک کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔وہ ہمیں باڑ کی تعمیر کر کہ داخل ہونے سے روکتے ہیں۔وہ ہمیں جلاوطن کر کہ غائب کردیتے ہیں۔ لیکن ہم یہاں ہیں. ہم رہیں گے۔ہماری امید ہمارے ساتھ ہے۔ہمارے اپنے خواب ہیں۔ ہم رہتے ہیں۔متحدگی آمدید۔

ہماری یاد داشت پہلے سے زیادہ تازہ ہے

ہم اسطرح نہیں چھوڑے گے. ہمیں 2015 کی گرمیاں یاد ہیں۔جب سینکڑوں ہزاروں یورپ کی سرحدوں کو کھول دیاگیا۔ انہیں کوئی نہیں روک سکا کیونکہ کسی کو بھی انہیں روکنے کی اجازت نہیں تھی۔وہ صرف چلتےرہے۔ وہ کہیں پہنچنے کے لئے آگے بڑھتے رہے. بوڈاپیسٹ میں ٹرین سٹیشن سے آسٹرین سرحد تک، تحریک کی آزادی اب کوئی مطالبہ نہیں رہا۔ تحریک آزادی نے اپنے صحیح حق کی موجودگی  کے لئے حق، تحفظ تک مدد اور ایک مستقبل تک کے لئےراہ ہموار کر لی۔  “امید کی مارچ” جدوجہد کی طویل تاریخ میں ایک ناقابل فراموش واقعہ رہاہے۔

پھر بھی آج، ہم بہت سے ہیں۔ہم اب بھی یہاں ہیں، اور شاید ہماری تعداد بھی بڑھی ہے۔ روزمرہ، ہم موجودہ حکم کی نا انصافی کے خلاف مزاحمت کرنے کی کوشش کرتے ہیں. چھوٹے اور بڑے مظاہرے ہماری زندگی کا حصہ بن گئے ہیں۔ 2015 کی امیدیں ابھی تک کم نہیں ہوئی ہیں۔ یہ امیدیں جرمنی اور یورپ میں ہزاروں لوگوں کی یکجہتی کی کارروائیوں  کے اظہار میں ملی ہیں۔ ہم ہماری موجودگی کے حق کے لئے مہاجرین اور تارکین وطن کی موجودگی کے حق کے لئے جدوجہد کرتے ہیں، اور ابھی بھی جاری ہیں۔ ہم ہر روز مدد فراہم کرتے ہیں۔ہم ریاستی ظلم و ستم اور ملک بدری کے خلاف احتجاج کرتے ہیں۔ ہم نئی دائیں بازو کی لوکل اور فاشزم  (فاسطائیت) کی پرانی شکلوں کی جماعتوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہیں۔ ہم یہاں ہیں، اور ہم آنے والوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ہم وہ جو پہنچے ہیں۔ متحدگی آمدید!

یکجہتی سےسیاست تک!

موجودہ منتقلی کی پالیسیوں کو تبدیل کرنا ہوگا یہ نا قابل بات چیت ہے- یہ اور اس لئےکہ مرکزی پوزیشن جس سے ہم اپنے سیاسی کام کو منظم کریں گے۔ اور یہ سب سیاستدانوں تک چلا جاتا ہے:

حق سے آنے جانے کیلئیے: مرنا بند کرو!

بحیرہ روم میں مرنے کو روکنے ہوگا۔ ابھی، فوری طور پر۔اس کے بارے میں بات چیت کے لیئے تو کچھ نہیں۔ پرہم اس قاتلانہ سرحد پر موت اور مصائب کو معمول پر لانے کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں: ڈوبا کر ہلاک کیا جا رہا ہے: ہزاروں اموات کو پہلے ہی روکا جا سکتا ہے، اگر لوگ ایک جہاز یا فیری میں سوار ہو سکیں۔ بلکہ اس کی بجائے ظالموں کی مدد اور حمایت کے ہیں جو ان لوگوں کو ستاتا ہے۔ ہم یورپ کی منتقلی کی پالیسیوں کے الٹنے کا مطالبہ کرتے ہیں! محفوظ حصئوں کے لئے، نقل و حرکت اور ایک استقبالیہ یورپ کی آزادی کے لئے!

رہنے کےحق کے لئے: خوف کرنا بند کرو!

گزشتہ چند سالوں کے دوران، سینکڑوں، ہزاروں جرمنی تک پہنچےہیں۔لیکن سینکڑوں ہزاروں کو اب بھی پتہ نہیں ہے کہ وہ رہ سکتے ہیں یا نہیں۔ رہنے کےحق کے بغیر وہ ایک بہتر مستقبل پیدا کرنے کے قابل ہونے کے بجائے خوف، عدم تحفظ اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔ اور خواتین کے طور پراب ہمکوکسی بھی امتیازی سلوک اور تشدد کا تجربہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اور ان گنت خاندانوں کو جو الگ ہوئے تھے ایک بار پھر ایک دوسرے کے ساتھ رہ سکتے ہیں۔ ہم سیاسی فیصلہ سازی کے عمل میں حصہ لینے کے لیئے ان تمام لوگوں کو ایک واضح موقف کے لئے بلاتے ہیں: رہنے کے غیر مشروط حق اور جلاوطنی کو ختم کرنے کیلیئے- اب! جو یہاں ہیں ،ان تمام لوگوں سے،  وہ یہاں سے ہی ہیں، اور رہیں گے!

یکجہتی کرنے کے حق کے لئے: خاموشی توڑ دو!

اصل میں مختلف قانون ہی ممالک اور ریاستوں کے درمیان فرق کے مطابق ہماری درجہ بندیاں کرتاہے: رہنےکا حق  ،ایک برا نقطہ نظر،اور ایک اچھا کے ساتھ جڑا ہے۔ ان لوگوں کے،ممالک کو تعمیر کر رہے ہیں، محفوظ غیر محفوظ یا آدھے محفوظ۔۔ اخراج  سے سب سے زیادہ متاثرہونے والے افراد جو عام طور پراقلیتی گروپوں، روما اور وہ لوگ جو معاشرے کے اقدار کے قابل نہیں سمجھے جاتے، ایسے لوگوں کو اس طرح  غیر منظوری کے انتظارسے چکر  میں رہنے کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے۔اس لئے ہم صرف یکجہتی کی توسیع اور اپنے پیاروں کی اصلیتی بنیاد پر کسی قسم کی بھی تقسیم نہیں چاہتے۔

مساوی حقوق دینے کے لئے: نسل پرستی  بند کرو!

نہ صرف گزشتہ دو سال سے بلکہ اب سینکڑوں سال سے، ہمارا معاشرا ہمیشہ ایک افراد کہ مجموعہ  پر مشتمل رہا ہے۔ اصل میںہم  اب بھی ان کی جگہ پر کام اور رہائش گاہ رکھتے ہیں۔ جہاں ان کے باپ دادا پیدا ہوئے تھے؟ لوگ ہمیشہ آتے رہے ہیں. لوگ ہمیشہ چھوڑ کر جا تےہیں،پرغیر مساوی حقوق کا کوئی جواز نہیں ہے۔آپ شام، یونان، مقدونیہ، نائجیریا، مراکش یا بادن وورتنبرگ سے ہیں، چاہے. یہ رہائش، آپکو تعلیم، کام، نقل و حرکت یا صحت کی دیکھ بھال کرنے کے حق  بارے میں ہے، چاہے. سماجی اور سیاسی حقوق کے لئیے۔ بلکہ یہ سب ان تمام لوگوں کے لئے ہیں جویہاں موجود ہیں. اذل سےاور بغیر کسی مستثنیات کے۔

رہنے کے حق کے لئے:  عالمی ناانصافی کو ختم کر دو!

سینکڑوں سال سے، بعض ممالک دوسرے ممالک کے وسائل کو لوٹ چکے ہیں، اور غلاموں کی تجارت، قدرتی وسائل، انتہائی خراب لیبر اور بدعنوان حکومتیں،مغرب کی دولت کو علیحدہ کرنے اور استحصال پر بنایا گیا ہے،یورپ میں ایک بڑے پیمانے پر لوٹ مار والے  جاری سرمایہ دارانہ برآمد کرنے کا نظام جو ہردن مارتا ہے۔ اسی لئے لوگ یورپ کو فرار ہوئےجب انکے پاس کچھ نہیں بچا اور  وہ ان کی زندگی کو بچانا چاہتے ہیں۔ ہم سب کے لئے مساوی حقوق کا مطالبہ کرتے  ہیں۔صرف مغرب میں نہیں بلکہ  اس دنیا میں ہر جگہ سب کو خوشی اور ایک مستقبل کا اور جسمانی سالمیت کا حق ہے۔ کوئی بھی فرارنہیں ہونا چاہتا۔

ہماری آواز کا شمارہے!

آگے عام انتخابات کے ایک ہفتےمیں، ہم اپنے چہرے کو ظاہر کرنا چاہتے ہیں۔ہم سب، برلن کی سڑکوں پر متحد ہیں۔ ہم ان تمام آوازوں اور کہانیوں کی جگہ پیدا کرنا چاہتے ہیں، جن کوعام طورپر سنا نہیں جاتا یا ان سنا ہی رہنے دیا جاتا ہے۔  یہ کہانیاں شاید ہی سنائی دیتی ہیں، یہاں تک کہ ان موجودہ ‘سماجی انصاف کے لئے انتخابی مہم’ میں، بھی بہت کم  اوپر سے ووٹ دینے کا حق حاصل نہیں ہے۔ اسلیئےہم کہتے ہیں: اقوام خوش آمدید!

جب ہم سڑکوں پرہوں تو، ہمیں بہت زیادہ تعداد میں ہونا چاہئیے۔ہر وہ بندہ جو اجتماعی بھلائی اور یکجہتی کے بارے میں پرواہ  کرتا ہے اسے باہر آنا چاہیئے۔اور وہ بندہ جو  اب برداشت نہیں  کر سکتا ،  اوروہ لوگ جوبدتر حالات میں رہتے  ہیں،  یا وہ مجبور یا شکار لوگ جنہیں یورپ کی سرحدوں میں مرنے کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے، باہر آنا چاہیئے،۔ہم اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ بہت سو نے ان کے مستقبل کے لئے سالوں جدوجہد کی ہے۔ابھی ایک ساتھ ہماری آواز بلند کرنے کا وقت ہے۔ہم سوچ سے بھی زیادہ ہیں! ہم اقوام بن کر آئیں گے!

ستمبر 2017 کے 2 سے شروع ہونے والے امید  مارچ کی برسی کے قریب ہم مقامی ملاقاتیں کریں گے، آپ کے شہر میں، آپ کے گاؤں، آپکے ضلع میں، اسی وجہ سے کہ آپ تخلیقی بنو، کچھ نیا کرکے دکھاؤ!

ہم برلن میں ستمبر کے 16کو ایک قومی مظاہرے کے لئےدعوت دیتے ہیں آپ آئیں اوریکجہتی کریں اور معاشرتی شرکت، مساوی حقوق، اورایک بڑے پریڈ اور جدوجہد میں شامل ہوں۔ ہم متحدگی سے آئیں گے!

[pdb_sign]

TitleFirst NameLast NameCityProfession
jbTDEGYwyCQDuVbhm pkiajwas pkiajwas TtFDEkbUENGOsMcmjS GpltAuiEPIDFBQM
Dominique EBERHARDT Berlin
Dr. Michael Stoffels Kempen
Erik Marquardt Politiker und Fotograf
Michael Junge Berlin Lehrer und Rechtsanwalt
nathalie ponneau berlin musician
Laurie Lemaire Berlin Translator German-French-English
Bernd Sauer-Diete Berlin
Mark Herterich Berlin Informatiker
Katrin Lehnert Berlin Bibliothekarin
Absi Haj Hamdan Osnabrück schüler
Regina Müller-Huschke Berlin Keramikerin
Azizullah Yaqoubi Berlin
Dr. Judith Vey Berlin Soziologin TU Berlin
Ruth Luschnat Berlin Heilpraktikerin/ Einzelfallhelferin
Prof. Carmen Mörsch Zürich Institute for Art Education, Zürcher Hochschule der Künste
Tilman von Berlepsch Berlin Student
Tatjana Rottenberg Berlin/Istanbul Heilpraktikerin
Jasmin Giama-Gerdes Berlin
sozialpalast MUSIK CONVOY - Hip Hop Hurray! 2017 erik biembacher münster artist/activist
Elena Sanchez Martin Bremen Violinist
Dieter Staubach Dortmund Stadtplaner
Sharif Sorush Erfurt Altonaer-Straße 4
Thomas Ruttig oranienburg
Valentina Marziali Berlin Social worker
Karin Waldmann
Dr. Carolina Hohmann Berlin
Wolfgang Kipper Berlin Pensionär
carolin entenmann Berlin
Ute Zimmermann Lübbecke Dipl.Pädagogin
Ms. Maja Meh Ljubljana translator
Dr Ulrich Sattler Berlin
Dominika Zachura Berlin Marketing
Hanna Majenz Berlin Sozialarbeiterin
Veronika Brugger Berlin Publizistin, Mediatorin
Associazione Borderline Sicilia Catania
Melina Lehrian Berlin Student and Founder of DerAsylrechtsblog
Verena Walther von Herbstenburg Innsbruck Studentin
daniel pallasch berlin
Yohannes Robel Erfurt Friedrich-Ebert-straße69
Sardar Roshan Erfurt Carl Zeiss Straße 29
Lennart Mehrwald Cologne
Denise Grytzka Berlin
Oliver Weise
Dr Hayder Al-Taie Erfurt Doctor
Dr Tom Nowotny Stephanskirchen Pediatrician
Christian Nitschke Berlin
Qasim Mohammadi Erfurt Student
Canan Bayram Berlin Mitglied des Abgeordnetenhauses und Rechtsanwältin
Stefan Schneider Neuwied
Anneke Damm Leipzig Socialworker
Britta Kaune Berlin
Mr Idriss Mohammed idriss Eisenhüttenstadt Study
Andreas Zimmermann Berlin Sozialarbeiter/-pädagoge
Ursula Mayer-Eppelsheimer Frankfurt Artist
GRIPS Theater Berlin Marketing
Wagner Carvalho Berlin Künstlerische Leitung u. Geschäftsführung / Ballhaus Naunynstraße
Antje Biertümpel Hanau
Anastasia Tamms rostock Student
Carlchristian von Braunmühl Berlin
Walter Friedmann Bühl
Prof. Dr. Regina Römhild Berlin European Ethnologist, Humboldt-Universität zu Berlin
wiDMkMmlhWCZpWZdf JimmiNu pAqtVEiVtAYsdCrFhxw New York oeSbQjVjPiOwXX
We are united Alireza Khoshghadam Bielefeld Exonomics
Joachim Lasch Kempen ehrenamtlich. Flüchtlingshelfer
Michael Sommer Meinersen
Sonja Berg Zierenberg Selbständig
Stefanie Hilt
Ehrenamtlich Birgit Knoll
Michael Grimm Frankfurt am Main Offenes Haus der Kulturen e.V.
Frau A. ASSIETOU Eismine _Mensah Berlin Integration und Migrationberaterin
Roy Rempt Lychen Zukunftswerkstatt Internet-Aktivist Campaigner Organisationsmanagement
Jonas Braunmühl
Alexander Bosch Berlin Politische Bildung
Frau Marita Orbegoso Alvarez Berlin Teacher
RESQSHIP e.V. - Zivile Seenotrettung in Europa Bochum
Johannes Ulrich Würzburg MediNetz Würzburg e.V.
Irmgard Wurdack Berlin Computer Scientist
Jeannette Shiferaw Berlin Projektmanagement
Diak. Basisgemeinschaft Brot & Rosen Hamburg
Flucht und Migration Cottbus (FluMiCo) Mojtaba Abbassi Cottbus Ehrenamtliche Flüchtlingsaktivist
Angelika Zeller 53721 siegburg Sozialarbeiterin
Alexandra Mehdi Solingen DIE LINKE. Solingen
LCavaliero Mann Berlin Künstlerische Leitung SchwuZ
Hinrich Garms Offenbach am Main Sozial Beratender Mensch
Dr. Vanessa Agnew Essen Academic
Derya Aslan Berlin student
Beer Elisabeth 23714 Malente
Dipl.Psych. Winfried Huber Ostfildern Dipl.Psych./Psychotherapeut
ZuFlucht Lüchow ZuFlucht Lüchow Lüchow / Wendland
Daniela Jürgens Hamburg
Wiltrud Brächter Köln
Manuel Lieta Berlin
sozialforum mainz mainz
Peter Zschiesche Berlin Philosoph
Daniel Theile
georg stapel hamburg paramedic
Frau Theresia Liebs Kommunalpolitikerin
Susann Klang Hamburg Dipl. Pädagogin
Tatjana Eiler Peiting Student