Call_urdu


احتجاج احتجاج احتجاج

جبری بیدخلی ، علیعدگی ، نسل پرست تحریک کے خلاف تحریک آزادی اور مساوی
حقوق کیلیئے
29 ستمبر2018 کو ہیمبرگ میں احتجاج
نسل پرستی کے خلاف اتحاد
ہمیں پہلے سے معلوم ہے کہ 29 ستمبر 2018 – سال کا خوبصورت دن ہو گا ۔ یہ
ہمارا دن ہو گا ۔ ہم کافی ہیں۔ہم مختلف ہیں اور ہرروز اپنی گھر کی دہلیز سے
جدوجہد کرتے ہیں ۔ ستمبر میں ہم سب اکٹھے اپنی اپنی پناہ گاہوں ، گھروں ۔
دفاتر ۔شہروں ۔کنسٹرکشن سایئٹس ۔ سکولوں اور یونیورسیٹیوں سے ہیمبرگ آیءں
گے ۔ہم اپنے نغموں اور موسیقی سے سرد مہری۔نسل پرستی اور نفرت کو شہر کی
گلیوں سے ختم کردیں گے ۔ ہم اپنی یک جہتی سے دوستی ، انصاف اور اچھی سوچ سے
دنیا کو آگاہ کریں گے
جھوٹ کے خلاف آواز
ہمیں جو کہانیاں روز سنائی جاتی ہیں وہ توہین اور جھوٹ پر مبنی ہیں اور
ناقابل برداشت ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ پناہ گزین بحیرہ روم میں ڈوب کر ہمارے
لیئے مشکلات پیدا کرتے ہیں۔ یہ کہتے ہیں کہ ہم ان کو اپنے میں ضم کر نے کی
صلاحیت کی انتہا کو پہنچ چکے ہیں جبکہ نسل پرست انتہا پسند بغیر کسی رکاوٹ
کے گلیوں دندناتے پھر رہے ہیں ۔ یہ انضمام کی کی قیمت تو بتلاتے ہیں لیکن
اس بات سے انکار کرتے ہیں کہ جبری منتقلی ، زبان نہ سیکھنے دینا اور کام نہ
کرنے دینا وغیرہ پر اس سے کہیں زیادہ رقم خرچ کرتے ہیں ۔یہ تشدد کی بات
کرتے ہیں لیکن بچے کسطرح اپنے بستروں اور اسکولوں سے اغواہ کرکے غیر ممالک
بھیج دئیے جاتے ہیں۔۔
ہمیں برا بھلا کہنا اور بے دخل کرنا آسان ہے کیونکہ ہم میں کئی لوگ انکے
مقابلہ میں کمتر ہیں ۔ ہم جنگ بھوک غربت اور مصائب سے بھا گے ہوئے ہیں ۔ ہم
میں سے بہت سارے اسلئیے آئے ہیں کہ دنیا کے سرمایہ دارانہ نظام نے ہماری
زندگیوں کو تباہ و برباد کر دیا ہے۔۔
ہمارے بچے اسلیئے نہیں آسکتے کہ ہماری محبت اور خواہئشوں کی کوئی اہمیت
نہیں ۔حکومت وقت نے فیصلہ کیا ہے کہ سرحدیں بند کردی جائیں اور ہمیں کیمپوں
تک محصور کردیا جائے ۔ ہم پر کوئی ترس نا کھائے ۔ ہم انسان ہیں ۔ ہم نے
کوئی قصور نہیں کیا ۔ لیکن ہم کہتے ہیں ۔۔۔۔یہ ظاہر کرتا ہے کہ حقیقت میں
جمہوری حکومت میں جمہوریت کیسی ہوتی ہے ۔۔بحیرہ روم میں ڈوبتی کشتیاں ہمارے
لئیے کوئی خطرہ نہیں مگر نسل پرستی سے سارے یورپ میں مستقل قتل خطرناک ہے ۔۔۔
آیءں اس مشکل کو ایک نام دیں ۔۔جو کہ ایک نسل پرستی ہے۔

2017 میں 3000 سے زیادہ لوگ بحیرہ روم میں ڈوب گئے کیونکہ وہ یورپ مہنچنے
کی کو شش کر رہے تھے ۔ انکی موت کی خبر بڑی بڑی سرخیوں کے ساتھ آئی جو کہ
ایک بے نام موت تھی ۔جرمنی میں پناہ گزینوں کے کیمپوں میں 2200 واقعات درج
کئے گئے جو کے نسلی انتہا پسندوں کی طرف سے کئے گئے۔۔180 وہ لوگ زیر عتاب
آئے جو ان پناہ گزینوں کی حمائت کر رہے تھے ۔۔۔مسلمانوں اور مسلمان اداروں
پر 950حملے کئے گئے ۔۔ 1452سامراج مخالف جرائم رجسٹرڈ ہوئے ۔5.5 ملین سے
زیادہ لوگوں نے اپنا حق رائے دہی ایک انتھا پسند تنظیم AFD کیلئے استعمال
کیا۔۔ ہم ایک لمبے عرصہ تک NSU کو نہیں بھول سکتے جنہوں نے سالوں تک لوگوں
کو قتل کروایا ۔۔
اسلئے ہم سوچتے ہیں کہ جب کبھی کہا جاتا ہے کہ جرمنی خطرناک ہوتا جارہا
ہے۔۔چلیں ایمانداری سے بات کرتے ہیں کہ کون لوگ ہیں جو پناگاہوں اور گھروں
میں بیٹھے ہونے کے باوجود رات کو کھڑکیوں کی سرکنے کی آواز سنتے ہیں
۔۔امیگریشن دفاتر میں کون حراسان ہوتا ہے۔۔غیر قانونی ملازمتوں میں کس کا
استحصال ہوتا ہے ۔۔۔برتن کون دھوتا ہے ۔۔ٹوائلٹس اور گھروں کو کون صاف کرتا
ہے ۔۔کون ہے جو سالوں سے یہاں کام کر رہا ہے لیکن مہمان کی طرح ہے۔۔نہیں
یہیں پر ہماری پرسکون زندگی کا خاتمہ نہیں ہوتا کیونکہ AFD نیشنل اسمبلی
میں 13% کی اکژیت کے ساتھ داخل ہو گئی ہے۔۔
حقیقت کچھ اور ہے۔۔
ہم اٹھ کھڑے ہوں دوبارہ مگر اس یقین کے ساتھ کہ یہ آخری مرطبہ نہیں اس
انتہاپسندی کے پاگل پن کے خلاف۔۔دوغلی دنیا کے پستہ زہن کے خلاف۔۔اس
دیواربند سوسائٹی کے خلاف اور اس علیعدگی پسند پالیسی کے خلاف۔۔ہم علیعدہ
ہونگے نا ہی ہمیں علیعدہ ہونے دیں گے۔چاہے وہ جرمن ہو۔غیرملکی ہو ۔پناہ
گزین ہو یا مقامی۔چاہے وہ ڈارٹمنڈ سے ہو یا دمشق سے،یا افریقن ہو یا یونانی
۔چاہے وہ کابل سے ہو یا پھر کاسل سے۔۔یہ ہمارے لئے لمبے عرصہ سے اہم نہیں
رہا ۔ لیکن اہم یہ ہے کہ ہم کس سوسائٹی میں کس کے ساتھ مل جل کر رہنا چاہتے
ہیں ۔۔ ہم کافی عرصہ ہوا دوسری دنیا بنانا شروع کر چکے ہیں ۔۔ہمارے دروازے
کھلے ہیں۔۔یہ کوئی مسئلہ نہیں کہ ہم کہاں سے آئے ہیں ۔۔ہم ایک دوسرے کو
جانتے ہیں ۔۔ہمارے پاس ایک دوسرے کے ٹیلیفون نمبرز ہیں ۔ہم ایک دوسرے کے
ساتھ روابط اور اطلاعات کا علم رکھتے ہیں ۔۔ہم دوست بھی ہیں اور تجربہ بھی
رکھتے ہیں۔۔ہر وہ کام جو ہم مل جل کر کرتے ہیں ہمیں ایک نئی طاقت اور ہمت
عطا کرتا ہے۔۔چاہے یہ بحیرہ روم کی امدادی کشتی ہو یا پھر کوئی سرکاری دفتر
یا جاب سینٹر یا گھروں اور سکولوں کا معاملہ ۔۔ ہم اس نئی اور فرسودہ طاقت
کے ڈھانچے کے خلاف اور بین الا قوامی کالونی سسٹم کے خلاف جدوجہد کرتے رہیں
گے ۔ہم اپنے آپ کی اور اپنی انا کی ،انتہا پسندی ، جنسی استحصال اور ہر قسم
کے تشدد کے خلاف تمام
حدود کو گرادیں گے اور سرحدوں کو ختم کردیں گے

ہمیں جو ایک دوسرے کے ساتھ تجربہ ہوا ہے وہ بہت اہم اور بڑا ہے ۔۔Welcome
United کی ابتدا ستمبر 2017 برلن میں ہوئی ۔۔ہم نے اپنے حقوق اور اپنی آواز
کے لئے مظاہرہ کیا ۔۔مگر زیادہ اہم یہ ھے کہ ہم نے اپنانقطہ نظر زیادہ اچھے
طریقہ سے بیان کیا ہے ۔ کون کون اور ہم کتنے ہو سکتے ہیں ۔ اور ہم یہ ظاہر
کرچکے ہیں کہ ہم شہروں میں ۔ قرب و جوار میں ۔دوستوں میں ۔سرحدوں میں اور
افق پر بھی یہ تنظیم چلاسکتے ہیں ۔۔آئیں اس کو جاری رکھیں اور شروع کریں
۔۔کوئی خوف کا شائبہ نہیں ہونا چاہئے
ْْ۔۔کوئی تنہائی کا خوف نہیں ہو نا چاہئے اور نا ہی ہمیں کوئی سہولت درکار
ہے۔۔ہم سڑکو ں پر نکلیں گے کیونکہ ہمیں مستقبل چاہئے جو کہ سب کا مستقبل ہو۔۔۔

اس لئے ہم ایک بڑی پریڈ کی شکل میں جو کے نسلی انتھا پسندی کے خلاف یک جہتی
کا اظہار ہے ،جمع ہو رہے ہیں۔۔شائد یہ ذاتی انا یا بے اعتنائی یا پھر انتہا
پسندی ہو۔۔شائد اس سے اچھا وقت آجائے ۔، مگر یہ وقت ہمارا ہے ۔ اب جو ہونا
ہے ہو جائے اور یہ شروع ہو چکا ہے۔ہم تعداد مین کافی ہیں بلکہ اس سے بھی
زیادہ جتنا ہم سوچتے ہیں۔۔۔۔۔۔
ہم آپ کو 29 ستمبر کو ہیمبرگ میں قومی مظاہرہ میں شرکت کی دعوت دیتے ہیں۔۔
برابری کے حقوق اور یکجہتی کے لئے اس پریڈ میں شامل ہوں

خوش آمدیدمتحدد Welcome United